بھٹکل:4/اگست(ایس او نیوز)تعلقہ پنچایت کے اسٹامپ امداد کی تقسیم کاری میں تفریق کی گئی ہے، عملی منصوبے کو واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے بی جے پی ممبران نے میز کو پیٹ پیٹ کر صدر کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کئے جانے کا واقعہ جمعرات کو منعقدہ بھٹکل تعلقہ پنچایت کے عام میٹنگ میں پیش آیا ہے۔
میٹنگ کے شروع میں ہی بی جے پی ممبر پاشورناتھ جین نے کھڑے ہوکر مطالبہ کیا کہ عملی منصوبے کی فہرست کو پڑھ کر سناتے ہوئے منظوری لیں۔ کاموں کی تفصیل میٹنگ میں رکھتے ہی پاشورناتھ جین نے بات کرتے ہوئے اعتراض جتایا کہ ممبران کو جانکاری دئیے بغیر فہرست تیار کی گئی ہے۔ جین کا ساتھ دیتے ہوئے بی جے پی کے ایک اور ممبر ہنومنت نائک نے بھی میز کوپیٹتے ہوئے کہاکہ صدرنے من مانی کرتے ہوئے عملی منصوبہ کو تشکیل دیاہے، ہم عوام سے منتخب ہوکر آئے ہیں اور ہمیں عوام کاکام کرنا ہے، اس کے لئے ہمیں موقع نہیں دیا جارہا ہے۔ یہ بات کہتے ہوئےانہوں نے میز کو زور زورسے پیٹا۔ صدر ایشورنائک نے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ تمام ممبران کی مانگوں کودرج کیا گیا ہے، جہاں ضرورت ہوگی اسی کام کوعملی منصوبے کی فہرست میں شامل کیاجائے گا۔ صدر کی بات پربی جے پی ممبران اپنی باتوں پر ہی اڑے رہے اورنااطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگربتائی گئی مانگوں کو پورا نہیں کیا گیا تو متعلقہ میٹنگ کی کارروائی کو آگے بڑھنے نہیں دیں گے۔ تب بزرگ کانگریسی ممبر جئے لکشمی گونڈ اوراسٹانڈنگ کمیٹی چیرمن وشنو دیواڑیگا نے صدر کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ صدر کی فہرست کو ممبران نے اکثریت کے ساتھ منظوری دی ہے، اورصدر کے فیصلے پر ممبران نے رضامندی ظاہر کی ہے۔ کچھ دیر کے لئے نوک جھونک جاری رہی، جس کے دوران یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون کیا کہہ رہاہے ، دوبارہ بات کرنے کھڑی ہونے والی جئے لکشمی گونڈا نے کہا کہ ضابطہ کے مطابق محکمہ جات کے موضوعات پر ایک کے بعد ایک بحث ہونی چاہئے، پھر اس کے بعد صدر کی اجازت سے بقیہ معاملات پر بحث کرنے کی مانگ کی۔ جس کو مانتے ہوئے بی جے پی ممبران خاموش ہوگئے۔
ہیلپ لائن ایکسپرس سرکاری منصوبہ نہیں :شرالی گرام پنچایت کے صدر وینکٹیش نائک نے ریلوے اسٹیشن پر جاری ہیلپ لائن ایکسپرس کی طبی خدمات کے متعلق سوال کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا متعلقہ منصوبہ سرکاری نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے رکن اسمبلی، ضلع پنچایت صدر ، تعلقہ پنچایت صدرسمیت دیگر ممبران کو اور گرام پنچایت صدر سمیت کسی کو بھی بتائے بغیر پروٹوکال کے اصول کی دھجیاں اڑاکر ذاتی پروگرام کی طرح منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے آفسران سے مانگ کی کہ اس بابت وضاحت پیش کریں۔ صحت عامہ کے افسرنے وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ڈپٹی کمشنر کے حکم کی پابندی کی گئی ہے، انہوں نےمزیدکہاکہ چونکہ تحصیلدار یہاں کے نگراں کار ہیں وہی اس کا جواب دے سکتے ہیں۔ تحصیلدار میٹنگ میں موجود نہیں تھے، جس کو دیکھتے ہوئےاس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ اگلی میٹنگ میں یہ سوال پوچھا جائے ۔ میٹنگ میں بیلکے ، گورٹے میں بس کا مسئلہ ، یلووڑی کوؤور میں راشن کارڈ کامسئلہ جیسے اہم مسائل کو میٹنگ میں پیش کیا گیا ۔ تعلقہ پنچایت نائب صدر رادھا اشوک وئیدیا ، پنچایت افسر سی ٹی نائک موجود تھے۔ مینجر سدھیر گاؤنکر نے تمام کا استقبال کیا۔